نئی دہلی،11؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) سی بی آئی نے ہاتھرس معاملہ کی جانچ شروع کر دی ہے۔ اس معاملہ کی سفارش اتر پردیش کی یو گی حکومت نے کی تھی۔ واضح رہے 14 ستمبر کو 19 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر چار لوگوں نےجسمانی زیادتی کی تھی جس کے بعد لڑکی کو علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور 29 ستمبر کو لڑکی کی دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں علاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔ پولیس پر الزام ہے کہ اس نے لڑکی کی لاش کو اس کے گھر والوں کو نہیں دیا اور رات کے اندھیرے میں ہی اس کی آخری رسومات ادا کر دیں۔
ایک طرف پولیس پر الزام ہے کہ 30 ستمبر کو لڑکی کی آخری رسومات اس کےگھر والوں کی عدم موجودگی میں ادا کر دی گئیں ساتھ میں پولیس کا دعوی ہے کہ لڑکی کی آخری رسومات گھر والوں کی مرضی کے مطابق ہی ادا کی گئیں۔
اس سارے معاملہ پر پورے ہندوستان میں کافی ہنگامہ ہوا اور اتر پردیش کی یوگی حکومت کے خلاف کئی جگہ پرمظاہرہ ہوئے جس کے بعد اس معاملہ کی جانچ سی بی آئی کو سونپی گئی تھی۔اس معاملہ میں ایس آئی ٹی کی جانچ کے مطابق کئی افسران کو معطل بھی کیا جا چکا ہے۔
شروع میں اتر پردیش حکومت نے سیاست داں سمیت ذرائع ابلاغ کے لوگوں کو بھی اس لڑکی کےگھر جانے نہیں دیا تھا اور ایک مرتبہ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن دو دن بعد ان کو جانے کی اجازت دے دی تھی۔